لے کے پلکوں پہ ستاروں کے الم آتے ہیں
آج کل جشن کی صورت تیرے غم آتے ہیں
رہ میں کس کی ملاقات کا سورج ابھرا
قافلے نغمہ بہ لب، ساز بہ دم آتے ہیں
میری آنکھوں میں تو پھیلا ہے بیاباں کا غبار
بس وہیں رات کی ترتیب بگڑ جاتی ہے
رخِ زیبا پہ جہاں زلف کے خم آتے ہیں
سارا ماحول صلیبوں میں بدل جاتا ہے
جب کبھی تیرے مضافات میں ہم آتے ہیں
منزلِ صبحِ طرب ان کا مقدر ہے وفاؔ
جن کے دامن پہ ستاروں کے قدم آتے ہیں
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment