صفحات

Tuesday, 1 November 2016

لے کے پلکوں پہ ستاروں کے الم آتے ہیں

لے کے پلکوں پہ ستاروں کے الم آتے ہیں
آج کل جشن کی صورت تیرے غم آتے ہیں
رہ میں کس کی ملاقات کا سورج ابھرا
قافلے نغمہ بہ لب، ساز بہ دم آتے ہیں
میری آنکھوں میں تو پھیلا ہے بیاباں کا غبار
لوگ کیوں شہر سے بادیدۂ نم آتے ہیں
بس وہیں رات کی ترتیب بگڑ جاتی ہے
رخِ زیبا پہ جہاں زلف کے خم آتے ہیں
سارا ماحول صلیبوں میں بدل جاتا ہے
جب کبھی تیرے مضافات میں ہم آتے ہیں
منزلِ صبحِ طرب ان کا مقدر ہے وفاؔ
جن کے دامن پہ ستاروں کے قدم آتے ہیں

وفا حجازی

No comments:

Post a Comment