صفحات

Saturday, 5 November 2016

دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہو گی

دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہو گی
چاند بجھ گیا ہوگا،۔ رات رو پڑی ہو گی
کیا خبر کہ ایسے میں، تم نے کیا کِیا ہو گا
مجھ سے ترکِ الفت کی بات جب چلی ہو گی
بے قرار دنیا میں تیرے لوٹ آنے تک
جاگتی تمنا بھی تھک کے سو چکی ہو گی
کون ایسے قصوں کا اختتام چاہے گا
جن میں تیری زلفوں کی بات آ گئی ہو گی
آپ کیوں پریشاں ہیں، آپ تو نہیں روئے
آپ کی نگاہوں میں میری بے بسی ہو گی

یوسف تقی

No comments:

Post a Comment