صفحات

Friday, 4 November 2016

میرے کوزہ گر کا یہ مشغلہ پرانا ہے

میرے کوزہ گر کا یہ مشغلہ پرانا ہے
توڑ پھوڑ کر اس نے پھر مجھے بنانا ہے
دل نے تیری یادوں کے پھول چن کے لانے ہیں
اور ان کو یادوں کی شال پر لگانا ہے
ہاں کبھی کبھی دل میں چاندنی اترتی ہے
اور ایسا لگتا ہے، تُو نے ملنے آنا ہے
کب تلک تِری یادیں دل کو جگمگائیں گی
ایک دن تِرے غم نے یہ دِیا بجھانا ہے
ہم تو وہ مسافر ہیں، جن کو کچھ نہیں معلوم
کس طرف سے آئے ہیں کس طرف کو جانا ہے
روشنی سمندر ہے، اور اس سمندر میں
تیرگی کے دریا نے خود ہی ڈوب جانا ہے
دل کو کچھ نہیں معلوم اب تِرے وچھوڑے پر
سوگ کیا منانا ہے، روگ کیا لگانا ہے
نقش گر کے ہاتھوں میں ہیں ہماری پرکاریں
کیا خبر ہمیں اس نے کس طرف گھمانا ہے
ہم بھی اجنبی عارفؔ، تم بھی اجنبی فرہادؔ
اجنبی مسافر سے، کس نے دل لگانا ہے

عارف فرہاد

No comments:

Post a Comment