میرے کوزہ گر کا یہ مشغلہ پرانا ہے
توڑ پھوڑ کر اس نے پھر مجھے بنانا ہے
دل نے تیری یادوں کے پھول چن کے لانے ہیں
اور ان کو یادوں کی شال پر لگانا ہے
ہاں کبھی کبھی دل میں چاندنی اترتی ہے
کب تلک تِری یادیں دل کو جگمگائیں گی
ایک دن تِرے غم نے یہ دِیا بجھانا ہے
ہم تو وہ مسافر ہیں، جن کو کچھ نہیں معلوم
کس طرف سے آئے ہیں کس طرف کو جانا ہے
روشنی سمندر ہے، اور اس سمندر میں
تیرگی کے دریا نے خود ہی ڈوب جانا ہے
دل کو کچھ نہیں معلوم اب تِرے وچھوڑے پر
سوگ کیا منانا ہے، روگ کیا لگانا ہے
نقش گر کے ہاتھوں میں ہیں ہماری پرکاریں
کیا خبر ہمیں اس نے کس طرف گھمانا ہے
ہم بھی اجنبی عارفؔ، تم بھی اجنبی فرہادؔ
اجنبی مسافر سے، کس نے دل لگانا ہے
عارف فرہاد
No comments:
Post a Comment