صفحات

Friday, 4 November 2016

اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں

 اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں

دل دھڑکتا ہے کہ سچا ہوں میں

میرا ساقی ہے بڑا دریا دل

پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں

اور کس کو ہو مِرے زہر کی تاب

اپنے ہی آپ کو ڈستا ہوں میں

کیوں کروں پیروئ گوتم و قیس

جب بھرے گھر میں بھی تنہا ہوں میں

تھا وہ کچھ ہم سے زیادہ ہی مریض

جس کا دعویٰ تھا مسیحا ہوں میں

کیا نہیں ہے کوئی مے ہوش و گداز

جتنی پیتا ہوں سنبھلتا ہوں میں


گوپال متل

No comments:

Post a Comment