صفحات

Friday, 4 November 2016

زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں

 زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں

کہ داستانِ محبت سنا رہا ہوں میں

نہ پوچھ مجھ سے مِری بیخودی کا افسانہ

کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں

کہاں کا ضبطِ محبت کہاں کی تاثیریں

تسلیاں دلِ مضطر کو دے رہا ہوں میں

پھر ایک شعلۂ پر پیچ و تاب بھڑکے گا

کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں میں

تمہارے عشق میں مٹ کر تمہیں دکھا دونگا

نگاہِ ناز کا ایماں سمجھ گیا ہوں میں


گوپال متل

No comments:

Post a Comment