صفحات

Friday, 4 November 2016

بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں

بہت دنوں کی بات ہے
فضا کو یاد بھی نہیں
یہ بات آج کی نہیں
بہت دنوں کی بات ہے
شباب پر بہار تھی
فضا بھی خوشگوار تھی

نہ جانے کیوں مچل پڑا
میں اپنے گھر سے چل پڑا
کسی نے مجھے روک کر
بڑی ادا سے ٹوک کر
کہا تھا، لوٹ آئیے
میری قسم نہ جائیے
پر مجھے خبر نہ تھی
ماحول پر نظر نہ تھی
نہ جانے کیوں مچل پڑا
میں اپنے گھر سے چل پڑا
میں شہر سے پھر آ گیا
خیال تھا کہ پا گیا
اسے جو مجھ سے دور تھی
مگر میری ضرور تھی
اور اک حسیں شام کو
میں چل پڑا سلام کو
گلی کا رنگ دیکھ کر
نئی ترنگ دیکھ کر
مجھے بڑی خوشی ہوئی
میں کچھ اسی خوشی میں تھا
کسی نے جھانک کر کہا
پراۓ گھر سے جائیے
میری قسم نہ آئیے
وہی حسین شام ہے
بہار جس کا نام ہے
چلا ہوں گھر کو چھوڑ کر
نہ جانے جاؤں گا کدھر
کوئی نہیں جو ٹوک کر
کوئی نہیں جو روک کر
کہے کہ لوٹ آئیے
میری قسم نہ جائیے
میری قسم نہ جائیے

سلام مچھلی شہری

No comments:

Post a Comment