صفحات

Friday, 4 November 2016

عجب ہے کیا عجب ہے

عجب ہے، کیا عجب ہے
تا ابد پھیلا ہوا حیرت کدہ
حیرت کدے میں
تا ابد پھیلا ہوا دریا
تِری بینائی کا یہ مست اور رنگین دریا
اور تِرے اس مست اور رنگین دریا کے تعاقب میں

مِرا
صحرا
خود اپنی پیاس میں بھیگا ہوا مجذوب صحرا
اور اس مجذوب صحرا کے سرابوں میں
بھٹکتا میں
کہ جس کی آنکھ میں لا کے نہ ہونے کے
سبھی دکھ
اشک بن کر
بجھ گئے ہیں

عارف فرہاد

No comments:

Post a Comment