بے ترتیب ادھورے خوابوں جیسے ہیں
صحرا میں ہم لوگ سرابوں جیسے ہیں
اس نے کہا اب زخم تمہارے کیسے ہیں
میں نے کہا بس تازہ گلابوں جیسے ہیں
دیکھنے میں وہ دریا جیسا ہے، لیکن
ان کو پھولوں کے تحفے کیا بھیجیں ہم
وہ تو خود ہی سرخ گلابوں جیسے ہیں
جب سے ملا ہے اسکے پیار کا فیض مجھے
تب سے یہ دن رات عذابوں جیسے ہیں
دیکھ ہم اکثر موج میں رہتے ہیں فرہادؔ
اسی لئے سب دوست حبابوں جیسے ہیں
عارف فرہاد
No comments:
Post a Comment