صفحات

Wednesday, 2 November 2016

یوں کھلے عام کہاں اپنی زباں کھولتی ہے

یوں کھلے عام کہاں اپنی زباں کھولتی ہے
ہاں، بہت گہری محبت ہے، یہ کم بولتی ہے
میں تو ہر بار خرد کوکھ سے لیتا ہوں جنم
عشق آیا، میری گھٹی میں جنوں گھولتی ہے
عشق میں اونگھ اگر آئی تو پھر جان گئی
زندگی تھل میں بگولے کی طرح رولتی ہے
اس میں کچھ اور ہی پیمانے ہیں پیمائش کے
ناپتی ہے یہ خوشی، اور نہ غم تولتی ہے
ڈگمگاتے ہیں کہاں آگ پہ بھی اس کے قدم
آسماں کانپنے لگتا ہے،۔ زمیں ڈولتی ہے

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment