صفحات

Wednesday, 2 November 2016

عشق کے نام پہ خیرات بھی لے لیتے ہیں

عشق کے نام پہ خیرات بھی لے لیتے ہیں
یہ وہ صدقہ ہے جو سادات بھی لے لیتے ہیں
مشکلوں میں مِرے پلنے پہ تعجب کیسا
جڑ سے تھوڑی سی نمو، پات بھی لے لیتے ہیں
یہ جو آتے ہیں تجھے روز دلاسا دینے
باتوں باتوں میں تِری بات بھی لے لیتے ہیں
دشت میں آئے ہیں تو، قیس سے بھی ملتے چلیں
خضرِ صحرا سے ہدایات بھی لے لیتے ہیں
صرف گھر تک ہی نہیں گوشہ نشینی اپنی
میلوں ٹھیلوں میں اسے ساتھ بھی لے لیتے ہیں
ان دنوں شعر میں بھی شعبدہ بازی ہے بہت
بعض تو اوروں کی خدمات بھی لے لیتے ہیں

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment