میرا خوں تک جلا دیجئے
پر اندھیرا مٹا دیجئے
دوسروں سے تو لڑ لونگا میں
خود سے لڑنا سکھا دیجئے
میں عدالت میں سچ کہہ گیا
اس زمانے کا منصور ہوں
مجھ کو سُولی چڑھا دیجئے
دل نے پھر کی تمنا کوئی
دے کے تھپکی سُلا دیجئے
آپ کو بھول سکتا نہیں
آپ چاہے بھلا دیجئے
کٹ ہی جائے گی تیمورؔ شب
دل کو کچھ حوصلہ دیجئے
تیمور حسن تیمور
No comments:
Post a Comment