اعصاب رہ گئے نہ عصا رہ گیا مِرا
میں رہ گیا ہوں اور خدا رہ گیا مِرا
دیکھا مجھے تو سارے پرندے ہوا ہوئے
تالاب آنسوؤں سے بھرا رہ گیا مِرا
بے گھر ہوں اور سوچتا رہتا ہوں رات بھر
پھر زخم کر رہے ہیں نمو میرے جسم پر
آوارگاں کو یاد پتا رہ گیا مِرا
وحشت نے آئینے کو خدوخال دے دیے
دیکھا تو منہ کھلے کا کھلا رہ گیا مِرا
فیصل عجمی
No comments:
Post a Comment