صفحات

Thursday, 3 November 2016

کیا مقدر دیا گیا ہے مجھے

کیا مقدر دیا گیا ہے مجھے
خواب میں گھر دیا گیا ہے مجھے
اپنے سائے کو ڈستا رہتا ہوں
زہر سے بھر دیا گیا ہے مجھے
کس کی دھڑکن سنائی دیتی ہے
دل تو پتھر دیا گیا ہے مجھے
ہے کوئی اور ہی پسِ پردہ
سامنے کر دیا گیا ہے مجھے
یہ جو انعامِ حرف ہے فیصلؔ
خامشی پر دیا گیا ہے مجھے

فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment