کیا مقدر دیا گیا ہے مجھے
خواب میں گھر دیا گیا ہے مجھے
اپنے سائے کو ڈستا رہتا ہوں
زہر سے بھر دیا گیا ہے مجھے
کس کی دھڑکن سنائی دیتی ہے
ہے کوئی اور ہی پسِ پردہ
سامنے کر دیا گیا ہے مجھے
یہ جو انعامِ حرف ہے فیصلؔ
خامشی پر دیا گیا ہے مجھے
فیصل عجمی
No comments:
Post a Comment