صفحات

Friday, 4 November 2016

رنگینی ہوس کا وفا نام رکھ دیا

 رنگینئ ہوس کا وفا نام رکھ دیا

خوددارئ وفا کا جفا نام رکھ دیا

انسان کی جو بات سمجھ میں نہ آ سکی

انسان نے اس کا حق کی رضا نام رکھ دیا

خود غرضیوں کے سائے میں پاتی ہے پرورش

الفت کو جس کا صِدق و صفا نام رکھ دیا

بے مہرئ حبیب کا مشکل تھا اعتراف

یاروں نے اس کا ناز و ادا نام رکھ دیا

فطرت میں آدمی کی ہے مبہم سا ایک خوف

اس خوف کا کسی نے 'خدا' نام رکھ دیا

یہ روح کیا ہے جسم کا عکسِ لطیف ہے

یہ اور بات ہے کہ جدا نام رکھ دیا

مفلس کو اہلِ زر نے بھی کیا کیا دئیے فریب

اپنی جفا کا 'حکمِ خدا' نام رکھ دیا


گوپال متل

No comments:

Post a Comment