صفحات

Friday, 2 December 2016

تم مری زندگی میں آئی ہو

 عنیزہ کے نام اک نظم (طویل نظم)


تم مِری زندگی میں آئی ہو

میرا اک پاؤں جب رکاب میں ہے

دل کی دھڑکن ہے ڈوبنے کے قریب

سانس ہر لحظہ پیچ و تاب میں ہے

ٹوٹتے بے خروش تاروں کی

آخری کپکپی رباب میں ہے

کوئی منزل، نہ جادۂ منزل

راستہ گُم کسی سراب میں ہے

تم کو چاہا کیا خیالوں میں

تم کو پایا بھی جیسے خواب میں ہے

تم مِری زندگی میں آئی ہو

میرا اک پاؤں جب رکاب میں ہے

میں سوچتا تھا کہ تم آؤ گی تمہیں پا کر

میں اس جہان کے دُکھ درد بُھول جاؤں گا

گلے میں ڈال کے بانہیں جو جُھول جاؤ گی

میں آسمان کے تارے بھی توڑ لاؤں گا

تم ایک بیل کی مانند بڑھتی جاؤ گی

نہ چُھو سکیں گی حوادث کی آندھیاں تم کو

میں اپنی جان پہ سو آفتیں اُٹھا لوں گا

چُھپا کے رکھوں گا بانہوں کے درمیاں تم کو

مگر میں آج بہت دُور جانے والا ہوں

بس اور چند نفس کو تمہارے پاس ہوں میں

تمہیں جو پا کے خوشی ہے تم اس خوشی پہ نہ جاؤ

تمہیں یہ علم نہیں کس قدر اُداس ہوں میں

کیا تم کو خبر اس دنیا کی کیا تم کو پتہ اس دنیا کا

معصوم دلوں کو دکھ دینا شیوہ ہے اس دنیا کا

غم اپنا نہیں غم اس کا ہے کل جانے تمہارا کیا ہو گا

پروان چڑھو گی تم کیسے جینے کا سہارا کیا ہو گا

آؤ کہ ترستی بانہوں میں اک بار تو تم کو بھر لوں میں

کل تم جو بڑی ہو جاؤ گی جب تم کو شعور آ جائے گا

کتنے ہی سوالوں کا دھارا احساس سے ٹکرا جائے گا

سوچو گی کہ دنیا طبقوں میں تقسیم ہے کیوں یہ پھیر ہے کیا

انسان کا انساں بیری ہے یہ ظلم ہے کیا اندھیر ہے کیا

یہ نسل ہے کیا یہ ذات ہے کیا یہ نفرت کی تعلیم ہے کیوں

دولت تو بہت ہے ملکوں میں دولت کی مگر تقسیم ہے کیوں

تاریخ بتائے گی تم کو انساں سے کہاں پر بُھول ہوئی

سرمائے کے ہاتھوں لوگوں کی کس طرح محبت دُھول ہوئی

صدیوں سے برابر محنت کش حالات سے لڑتے آئے ہیں

چھائی ہے جو اب تک دھرتی پر اس رات سے لڑتے آئے ہیں

دنیا سے ابھی تک مٹ نہ سکا پر راج اجارہ داری کا

غربت ہے وہی افلاس، وہی رونا ہے وہی بے کاری کا

محنت کی ابھی تک قدر نہیں، محنت کا ابھی تک مول نہیں

ڈھونڈے نہیں ملتیں وہ آنکھیں جو آنکھیں ہوں کشکول نہیں

سوچا تھا کہ کل اس دھرتی پر اک رنگ نیا چھا جائے گا

انسان ہزار برسوں کی محنت کا ثمر پا جائے گا

جینے کا برابر حق سب کو جب ملتا وہ پل آ نہ سکا

جس کل کی خاطر جیتے جی مرتے رہے وہ کل آ نہ سکا

لیکن یہ لڑائی ختم نہیں، یہ جنگ نہ ہو گی بند کبھی

سو زخم بھی کھا کر میداں سے ہٹتے نہیں جرأت مند کبھی

وہ وقت کبھی تو آئے گا، جب دل کے چمن لہرائیں گے

مر جاؤں تو کیا مرنے سے مِرے یہ خواب نہیں مر جائیں گے

یہ خواب ہی میری دولت ہیں، یہ خواب تمہیں دے جاؤں گا

اس دہر میں جینے مرنے کے آداب تمہیں دے جاؤں گا

ممکن ہے کہ یہ دنیا کی روش پل بھر کو تمہارا ساتھ نہ دے

کانٹوں ہی کا تحفہ نذر کرے پھولوں کی کوئی سوغات نہ دے

ممکن ہے تمہارے رستے میں ہر ظُلم و ستم دیوار بنے

سینے میں دہکتے شعلے ہوں، ہر سانس کوئی آزار بنے

ایسے میں نہ کھل کر رہ جانا اشکوں سے نہ آنچل بھر لینا

غم آپ بڑی اک طاقت ہے، یہ طاقت بس میں کر لینا

ہو عزم تو لو دے اُٹھتا ہے، ہر زخم سُلگتے سینے کا

جو اپنا حق خود چھین سکے ملتا ہے اسے حق جینے کا

لیکن یہ ہمیشہ یاد رہے اک فرد کی طاقت کچھ بھی نہیں

جو بھی ہو اکیلے انساں سے دنیا کی بغاوت کچھ بھی نہیں

تنہا جو کسی کو پائیں گے طاقت کے شکنجے جکڑیں گے

سو ہاتھ اٹھیں گے جب مل کر دنیا کا گریباں پکڑیں گے

انسان وہی ہے تابندہ اس راز سے جس کا سینا ہے

اوروں کے لیے تو جینا ہی خود اپنے لیے بھی جینا ہے

جینے کی ہر طرح سے تمنا حسین ہے

ہر شر کے باوجود یہ دنیا حسین ہے

دریا کی تند باڑھ بھیانک سہی مگر

طوفاں سے کھیلتا ہوا تنکا حسین ہے

صحرا کا ہر سکوت ڈراتا رہے تو کیا

جنگل کو کاٹتا ہوا رستا حسین ہے

دل کو ہلائے لاکھ گھٹاؤں کی گھن گرج

مٹی پہ جو گرا ہے وہ قطرہ حسین ہے

دہشت دلا رہی ہیں چٹانیں تو کیا ہوا

پتھر میں جو صنم ہے وہ کتنا حسین ہے

راتوں کی تیرگی ہے جو پر ہول غم نہیں

صبحوں کا جھانکتا ہوا چہرہ حسین ہے

ہوں لاکھ کوہسار بھی حائل تو کیا ہوا

پل پل چمک رہا ہے جو تیشہ حسین ہے

لاکھوں صعوبتوں کا اگر سامنا بھی ہو

ہر جہد ہر عمل کا تقاضا حسین ہے

چمن سے چند ہی کانٹے میں چُن سکا لیکن

بڑی ہے بات جو تم رنگ گُل نکھار سکو

یہ دور دور جہاں کاش تم کو راس آئے

تم اس زمین کو کچھ اور بھی سنوار سکو

عمل تمہارا یہ توفیق دے سکے تم کو

کہ زندگی کا ہر اک قرض تم اتار سکو

سفر حیات کا آسان ہو ہی جاتا ہے

اگر ہو دل کو سہارا کسی کی چاہت کا

وہ پیار جس میں نہ ہو عقل و دل کی یکجہتی

کسی طریق سے جذبہ نہیں محبت کا

ہزاروں سال میں تہذیب جسم نکھری ہے

بجا کہ جنس تقاضا ہے ایک فطرت کا

تمہیں کل اپنے شریکِ سفر کو چُننا ہے

وہ جس سے تم کو محبت ملے رفاقت بھی

ہزار ایک ہوں دو ذہن مختلف ہوں گے

یہ بات تلخ ہے لیکن ہے عین فطرت بھی

بہت حسین ہے ذہنی مفاہمت، لیکن

بڑی عظیم ہے آدرش کی حفاظت بھی

کبھی یہ گُل بھی نظر کو فریب دیتے ہیں

ہر ایک پُھول میں تمیز رنگ و بُو رکھنا

خیال جس کا گُزرگاہ صد بہاراں ہے

ہر اک قدم اسی منزل کی آرزو رکھنا

کوئی بھی فرض ہو خواہش سے پھر بھی برتر ہے

تمام عمر فرائض کی آبرو رکھنا

تم ایک ایسے گھرانے کی لاج ہو جس نے

ہر ایک دور کو تہذیب و آگہی دی ہے

تمام منطق و حکمت تمام علم و ادب

چراغ بن کے زمانے کو روشنی دی ہے

جلا وطن ہوئے آزادیٔ وطن کے لیے

مرے تو ایسے کہ اوروں کو زندگی دی ہے

غم حیات سے لڑتے گُزار دی میں نے

مگر یہ غم ہے تمہیں کچھ خوشی نہ دے پایا

وہ پیار جس سے لڑکپن کے دن مہک اُٹھیں

وہ پیار بھی میں تمہیں دو گھڑی نہ دے پایا

میں جانتا ہوں کہ حالات سازگار نہ تھے

مگر میں خود کو تسلی کبھی نہ دے پایا

یہ میری نظم مِرا پیار ہے تمہارے لیے

یہ شعر تم کو مِری روح کا پتا دیں گے

یہی تمہیں مِرے عزم و عمل کی دیں گے خبر

یہی تمہیں مِری مجبوریاں بتا دیں گے

کبھی جو غم کے اندھیرے میں ڈگمگاؤ گی

تمہاری راہ میں کتنے دِیے جلا دیں گے

اب مِرے پاس اور وقت نہیں

سانس ہر لحظہ اضطراب میں ہے

لرزاں لرزاں کوئی دُھندلکا سا

ڈوبتے زرد آفتاب میں ہے

موت کو کس لیے حجاب کہیں

کس کو معلوم کیا حجاب میں ہے

جسم و جاں کا یہ عارضی رشتہ

کتنا ملتا ہوا حباب میں ہے

آج جو ہے وہ کل نہیں ہو گا

آدمی کون سے حساب میں ہے

خود زمانے بدلتے رہتے ہیں

زندگی صرف انقلاب میں ہے

آؤ آنکھوں میں ڈال دو آنکھیں

رُوح اب نزع کے عذاب میں ہے

تھرتھراتا ہوا تمہارا عکس

کب سے اس دیدۂ پُر آب میں ہے

روشنی دیر سے آنکھوں کی بُجھی جاتی ہے

ٹھیک سے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا مجھ کو

ایک چہرا مِرے چہرے پہ جھکا آتا ہے

کون ہے یہ بھی سُجھائی نہیں دیتا مجھ کو

صرف سناٹے کی آواز چلی آتی ہے

اور تو کچھ بھی سنائی نہیں دیتا مجھ کو

آؤ اس چاند سے ماتھے کو ذرا چُوم تو لوں

پھر نہ ہو گا تمہیں یہ پیار نصیب آ جاؤ

آخری لمحہ ہے سینے پہ مِرے سر رکھ دو

دل کی حالت ہوئی جاتی ہے عجیب آ جاؤ

نہ اعزاء نہ احباء نہ خدا ہے نہ رسول

کوئی اس وقت نہیں میرے قریب آ جاؤ

تم تو قریب آ جاؤ


جاں نثار اختر

No comments:

Post a Comment