صفحات

Friday, 2 December 2016

اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا

 اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا

بتوں کے سامنے جا کر خدا کا واسطہ دینا

نگاہ شوق کا بڑھ کر نقاب رخ اٹھا دینا

تِرے جلوے کا برہم ہو کے اک بجلی گرا دینا

خدائی ہی خدا کی خاک سے انساں بنا دینا

تمہارا کھیل ہے انساں کو مٹی میں ملا دینا

میں اپنی داستان درد دل رو رو کے کہتا ہوں

جہاں سے چاہنا تم سنتے سنتے مسکرا دینا

مذاق شکوہ اچھا ہے مگر اک شرط ہی اے دل

یہاں جو یاد کر لینا وہاں جا کر بھلا دینا

وفا بے شک جفاؤں کا بدل ہے لیکن اے ظالم

بہت مشکل ہے مجھ سے رونے والے کو ہنسا دینا

زباں کو شکوہ سنجی کا مزا ہی بات کہنے دو

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم داد وفا دینا

یہی معنی ہیں اے شوکت بلند و پست کے شاید

نگاہوں پر چڑھانا اور نظروں سے گرا دینا


شوکت تھانوی

No comments:

Post a Comment