صفحات

Friday, 2 December 2016

کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں

 کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں

ستمگاروں میں عیاروں میں دلداروں میں یاروں میں

کسی کا دل تو کیا شیشہ نہ ٹوٹا بادہ خواروں میں

یہ توبہ ٹوٹ کر کیوں جا ملی پرہیزگاروں میں

کہاں ہے دختر رز اے محتسب ہم بادہ خواروں میں

تِرے ڈر سے وہ کافر جا چھپی پرہیزگاروں میں

کوئی غنچہ دہن ہنس کر ہمیں اب کیا ہنسائے گا

بہاریں ہم نے لوٹی ہیں بہت اگلی بہاروں میں

انہیں لوگوں کے آنے سے تو میخانے کی عظمت ہے

قدم لو شیخ کے تشریف لائے بادہ خواروں میں

وہ کترا کر چلے ہیں مے کدے سے حضرت زاہد

بڑے مرشد ہیں ہاتھوں ہاتھ لانا ان کو یاروں میں

پڑا رویا کرے وہ داغ بے کس اس طرح تنہا

کہ جس کی رات دن ہنس بول کر گزری ہو یاروں میں


داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment