صفحات

Friday, 2 December 2016

لے کے اوزار سب پیشہ ور آ گئے

لے کے اوزار سب پیشہ ور  آ گئے
کیسے کیسے یہاں چارہ گر آ گئے
عالمِ شوق کی کیسی منزل ہے یہ 
سر کے بل ہم گئے دیکھ کر آ گئے 
تیری محفل سے کچھ بھی نہ حاصل ہوا
بے خبر ہم گئے،۔ بے خبر آ گئے
 تیرے حرفِ تسلی کا کیا فائدہ؟
اب یہاں کتنے ہی نوحہ گر آ گئے 
شہر تیرے میں پہنچے تو ایسا لگا 
بعد مدت کے ہم اپنے گھر آ گئے 
خواجہؔ جی جیسے ہی بزم آرا ہوئے 
بربط اپنے لیے نغمہ گر آ گئے 

خواجہ اشرف
کے اشرف

No comments:

Post a Comment