لے کے اوزار سب پیشہ ور آ گئے
کیسے کیسے یہاں چارہ گر آ گئے
عالمِ شوق کی کیسی منزل ہے یہ
سر کے بل ہم گئے دیکھ کر آ گئے
تیری محفل سے کچھ بھی نہ حاصل ہوا
تیرے حرفِ تسلی کا کیا فائدہ؟
اب یہاں کتنے ہی نوحہ گر آ گئے
شہر تیرے میں پہنچے تو ایسا لگا
بعد مدت کے ہم اپنے گھر آ گئے
خواجہؔ جی جیسے ہی بزم آرا ہوئے
بربط اپنے لیے نغمہ گر آ گئے
خواجہ اشرف
کے اشرف
No comments:
Post a Comment