دوسرا آدمی
سنو! پھر آج ہم میں سے کسی کو موت نے تاکا
اچانگ مر گیا کوئی
چلو یارو! پئیں، دیوار سے سر پھوڑ کے روئیں
نشہ اترے تو اس کی یاد میں اک مرثیہ لکھیں
پرانے تذکروں میں اس کے خد و خال کو ڈھونڈیں
کتابوں کے ورق الٹیں
رسالوں اور اخباروں کی پچھلی فائلیں کھولیں
دماغ و دل کے گوشے میں چھپی یادیں کریدیں
تلخیاں بھولیں
فراموشی کی ساری گرد جھاڑیں
رنجشیں بھولیں
ہر اک خوبی ہم اس کے نام سے منسوب کر دیں
اور ایسے شخص کا پیکر تراشیں
کل جو اپنے درمیاں زندہ نہیں تھا
زبیر رضوی
No comments:
Post a Comment