عشق کیا چیز ہے یہ پوچھیے پروانے سے
زندگی جس کو میسر ہوئی جل جانے سے
موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو
موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے
ہو گیا ڈھیر وہیں، آہ بھی نکلی نہ کوئی
حسن بے عشق کہیں رہ نہیں سکتا زندہ
بجھ گئی شمع بھی پروانے کے جل جانے سے
کھاۓ جاتی ہے ندامت مجھے اس غفلت کی
ہوش میں آ کے چلا آیا ہوں مۓ خانے سے
کر دیا گردشِ ایام نے رسوا ساحرؔ
مجھ کو شکوہ ہے یگانے سے نہ بیگانے سے
ساحر ہوشیار پوری
No comments:
Post a Comment