صفحات

Sunday, 4 December 2016

عشق کیا چیز ہے یہ پوچھیے پروانے سے

عشق کیا چیز ہے یہ پوچھیے پروانے سے
زندگی جس کو میسر ہوئی جل جانے سے
موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو
موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے
ہو گیا ڈھیر وہیں، آہ بھی نکلی نہ کوئی
جانے کیا بات کہی شمع نے پروانے سے
حسن بے عشق کہیں رہ نہیں سکتا زندہ
بجھ گئی شمع بھی پروانے کے جل جانے سے
کھاۓ جاتی ہے ندامت مجھے اس غفلت کی
ہوش میں آ کے چلا آیا ہوں مۓ خانے سے
کر دیا گردشِ ایام نے رسوا ساحرؔ
مجھ کو شکوہ ہے یگانے سے نہ بیگانے سے

ساحر ہوشیار پوری

No comments:

Post a Comment