صفحات

Sunday, 4 December 2016

تہمتیں اٹھا لیں کیا ہم شکست کھا لیں کیا

تہمتیں اٹھا لیں کیا 
ہم شکست کھا لیں کیا 
مان لیں زمانے کی
اور سر جھکا لیں کیا 
کھاۓ ہیں بہت دھوکے
پھر فریب کھا لیں کیا 
اس بہار چہرے پر
ہم بھی دکھ سجا لیں کیا
پگڑیوں کی خواہش میں 
پگڑیاں اچھالیں کیا
دوسروں کے آنگن میں 
راستہ بنا لیں کیا
حیلہ ساز رہزن کو 
رہنما بنا لیں کیا
گھر جلا کے اوروں کے 
اپنا گھر بچا لیں کیا 
قتل کر کے بھائی کو 
اس کا خوں بہا لیں کیا 
ہم بھی رُت بدلتے ہی 
توبہ توڑ ڈالیں کیا

سعید الظفر صدیقی

No comments:

Post a Comment