صفحات

Sunday, 4 December 2016

لیے پھرتے ہیں دل میں غم کسی کا

لیے پھرتے ہیں دل میں غم کسی کا
عجب سا رنگ ہے اب زندگی کا
یہ کن حیرانیوں میں گھِر گیا ہوں میں
ہر اک چہرے پہ ہے چہرہ کسی کا
تعلق کو نہ اتنا آزماؤ
بھرم اب کھل نہ جائے دوستی کا
کسی صورت بہلتا ہی نہیں اب
ٹھکانہ ہی نہیں کوئی جی کا
خدا جانے کہاں لے جا رہا ہے
جنوں سا ہے جو اک آوارگی کا

سعید الظفر صدیقی

No comments:

Post a Comment