لیے پھرتے ہیں دل میں غم کسی کا
عجب سا رنگ ہے اب زندگی کا
یہ کن حیرانیوں میں گھِر گیا ہوں میں
ہر اک چہرے پہ ہے چہرہ کسی کا
تعلق کو نہ اتنا آزماؤ
کسی صورت بہلتا ہی نہیں اب
ٹھکانہ ہی نہیں کوئی جی کا
خدا جانے کہاں لے جا رہا ہے
جنوں سا ہے جو اک آوارگی کا
سعید الظفر صدیقی
No comments:
Post a Comment