دیکھتے ہیں جو اگر ہم وہ سنانے لگ جائیں
اچھے اچھوں کے میاں ہوش ٹھکانے لگ جائیں
کتنے خوش فہم ہیں کچھ لوگ تِری محفل میں
ہو اجازت تو ہم آئینہ دکھانے لگ جائیں
ایک ہی پَل میں کبھی عمر گزر جاتی ہے
پھر نہ کر دیں نظر انداز ہم اپنے دل کو
پھر کسی اور کی باتوں میں نہ آنے لگ جائیں
پھر یہ رستے نہ سرابوں کے حوالے کر دیں
پھر یہ آنکھیں نہ کہیں خواب دکھانے لگ جائیں
جاں بلب ہونے میں اک عمر لگی ہے دیکھو
کتنے دن جان سے جانے میں نہ جانے لگ جائیں
سعید الظفر صدیقی
No comments:
Post a Comment