صفحات

Sunday, 4 December 2016

دیکھتے ہیں جو اگر ہم وہ سنانے لگ جائیں

دیکھتے ہیں جو اگر ہم وہ سنانے لگ جائیں
اچھے اچھوں کے میاں ہوش ٹھکانے لگ جائیں
کتنے خوش فہم ہیں کچھ لوگ تِری محفل میں
ہو اجازت تو ہم آئینہ دکھانے لگ جائیں
ایک ہی پَل میں کبھی عمر گزر جاتی ہے
اور کسی پَل کو بِتانے میں زمانے لگ جائیں
پھر نہ کر دیں نظر انداز ہم اپنے دل کو
پھر کسی اور کی باتوں میں نہ آنے لگ جائیں
پھر یہ رستے نہ سرابوں کے حوالے کر دیں
پھر یہ آنکھیں نہ کہیں خواب دکھانے لگ جائیں
جاں بلب ہونے میں اک عمر لگی ہے دیکھو
کتنے دن جان سے جانے میں نہ جانے لگ جائیں

سعید الظفر صدیقی

No comments:

Post a Comment