صفحات

Friday, 2 December 2016

جب سمندر میں کناروں نے دھکیلا ہم کو

جب سمندر میں کناروں نے دھکیلا ہم کو
معجزا یہ ہوا موجوں نے ابھارا ہم کو
یوں تو غلمان کیا کرتے تھے سجدہ ہم کو
لیکن ابلیس نے چھوڑا نہ کہیں کا ہم کو
بے سبب جس میں کیا جاتا ہے رسوا ہم کو
پھر اسی بزم سے آیا ہے بلاوا ہم کو
تھا تو ہرگز نہ گوارا یہاں آنا ہم کو
شوقِ دیدار مگر کھینچ ہی لایا ہم کو
شعر کہنے کا سلیقہ دے خدایا ہم کو
طنز کے تیر بناتے ہیں نشانہ ہم کو
جھک کے آداب کیا کرتی تھی دنیا ہم کو
یاد آتا ہے وہی گزرا زمانہ ہم کو
شرمساری نہیں ہوتی سرِ عقبیٰ ہم کو
“کاش ہوتی نہ کبھی خواہشِ دنیا ہم کو”
آپ کی ذات سے بس اتنا ہے شکوہ ہم کو
اے خمارؔ آپ نے اپنا نہیں سمجھا ہم کو

خمار دہلوی

No comments:

Post a Comment