جب سمندر میں کناروں نے دھکیلا ہم کو
معجزا یہ ہوا موجوں نے ابھارا ہم کو
یوں تو غلمان کیا کرتے تھے سجدہ ہم کو
لیکن ابلیس نے چھوڑا نہ کہیں کا ہم کو
بے سبب جس میں کیا جاتا ہے رسوا ہم کو
تھا تو ہرگز نہ گوارا یہاں آنا ہم کو
شوقِ دیدار مگر کھینچ ہی لایا ہم کو
شعر کہنے کا سلیقہ دے خدایا ہم کو
طنز کے تیر بناتے ہیں نشانہ ہم کو
جھک کے آداب کیا کرتی تھی دنیا ہم کو
یاد آتا ہے وہی گزرا زمانہ ہم کو
شرمساری نہیں ہوتی سرِ عقبیٰ ہم کو
“کاش ہوتی نہ کبھی خواہشِ دنیا ہم کو”
آپ کی ذات سے بس اتنا ہے شکوہ ہم کو
اے خمارؔ آپ نے اپنا نہیں سمجھا ہم کو
خمار دہلوی
No comments:
Post a Comment