مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ
وہی آہِ صبح گاہی،۔۔ وہی گریۂ شبانہ
تب و تاب یک نفس تھا، غمِ مستعارِ ہستی
غمِ عشق نے عطا کی مجھے عمرِ جاودانہ
کوئی بات ہے ستمگر کہ میں جی رہا ہوں اب تک
میں ہوں اور زندگی سے گلۂ گریز پائی
کہ ابھی دراز تر ہے مِرے شوق کا ترانہ
جو اسیرِ رنگ و بُو ہوں تو مِرا قصور یا رب
مجھے تُو نے کیوں دیا تھا یہ فریب آب و دانہ
تُو جو قہر پر ہو مائل تو ڈبو دے موجِ ساحل
تِرا لطف ہو جو شامل، تو بھنور بھی آشیانہ
مِرے نالوں سے غرض کیا تیری نغمہ خوانیوں کو
یہ صدائے بے نوائی،۔۔۔ وہ نوائے دولتانہ
حفیظ ہوشیار پوری
No comments:
Post a Comment