صفحات

Saturday, 3 December 2016

یہی نہیں کہ تجھے بس معاف کرنا پڑا

یہی نہیں، کہ تجھے بس معاف کرنا پڑا
تِری طرف سے مجھے دل بھی صاف کرنا پڑا
زمیں پہ رہ کہ مِری ایک بھی سنی نہ گئی
میری دعا کو فلک پر شگاف کرنا پڑا
جب اسکی آنکھ میں کاجل سا معتبر ہوا میں
تو آئینوں کو بھی مِرا طواف کرنا پڑا
یہ دشت پاؤں کے چھالوں نے جب کیا قلزم
مِرے جنوں کا اسے اعتراف کرنا پڑا
اسے خفیف سزا اور مشتعل کرتی
سو فیصلہ مجھے اپنے خلاف کرنا پڑا

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment