صفحات

Saturday, 3 December 2016

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا
مجھے بتایا ہوا ہے میری چھٹی حِس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا
میرا یہ خون میرے دشمنوں کے سر ہو گا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا
یہاں کمان اٹھانا میری ضرورت ہے
وگرنہ میں بھی شرافت میں مارا جاؤں گا
فراغ میرے لیے موت کی علامت ہے
میں اپنی پہلی فراغت میں مارا جاؤں گا
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا
نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا
میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment