صفحات

Saturday, 3 December 2016

دو قدم چاند میرے ساتھ جو چل پڑتا ہے

دو قدم چاند میرے ساتھ جو چل پڑتا ہے
شہر کا شہر تعاقب میں نکل پڑتا ہے
میں سرِ آب جلاتا ہوں فقط ایک چراغ
دوسرا آپ ہی تالاب میں جل پڑتا ہے
پیاس جب توڑتی ہےسر پہ مصیبت کے پہاڑ
کوئی چشمہ میری آنکھوں سے اُبل پڑتا ہے
بے خیالی میں اسی راہ پہ چل پڑتا ہوں
جانتا بھی ہوں کہ اس راہ میں تھل پڑتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ تُو دیکھ رہا ہے مُڑ کر
جب ہواؤں سے کسی شاخ میں بَل پڑتا ہے
ٹُوٹ جاتا ہے محبت کا تسلسل یکسر
آج کے بیچ میں جس وقت یہ کل پڑتا ہے
درد بھی دیتا ہے دروازے پہ دستک دوشیؔ
دل کی دھک دھک سے بھی خوابوں میں خلل پڑتا ہے

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment