صفحات

Sunday, 4 December 2016

سجدہ کہاں لگا ہے ہماری جبین کا

سجدہ کہاں لگا ہے ہماری جبین کا
چرچہ ہے پھر فلک پہ تِرے در نشین کا
میری وفا ہے میری میں سے جڑی ہوئی
پہلا سبق ہے میرا وطن میرے دِین کا
کل رات جس کو چاند سمجھتے رہے تھے ہم
کنگن اچھل گیا تھا کسی نازنین کا
ہنسیے، چراغ اجالئیے، پودے لگائیے
کچھ حوصلہ بڑھائیے بوڑھی زمین کا
اس ڈر سے روک رکھے ہیں آنسو سعید نے
آنچل نہ بھیگ جائے کسی گل جبین کا

سعید احمد اختر 

No comments:

Post a Comment