سجدہ کہاں لگا ہے ہماری جبین کا
چرچہ ہے پھر فلک پہ تِرے در نشین کا
میری وفا ہے میری میں سے جڑی ہوئی
پہلا سبق ہے میرا وطن میرے دِین کا
کل رات جس کو چاند سمجھتے رہے تھے ہم
ہنسیے، چراغ اجالئیے، پودے لگائیے
کچھ حوصلہ بڑھائیے بوڑھی زمین کا
اس ڈر سے روک رکھے ہیں آنسو سعید نے
آنچل نہ بھیگ جائے کسی گل جبین کا
سعید احمد اختر
No comments:
Post a Comment