Sunday, 4 December 2016

تیری یادوں‌ کو بلا کر ترے گیسو کی طرح

تیری یادوں‌ کو بلا کر تِرے گیسو کی طرح
پہنے رہتے ہیں دریچے مِری خوشبو کی طرح
ہائے جب ہجر کی شب میں تِرے بوسوں کی مٹھاس
پھیل جاتی ہے مِرے ہونٹوں پہ جادو کی طرح
تو مِرے باغ سے توڑے ہوئے غنچے کی مثال
میں ‌تِرے دشت میں بھٹکے ہوئے آہو کی طرح
آسماں بانٹتا رہتا ہے نصیبے اخترؔ
دن کو موتی کی طرح رات کو آنسو کی طرح

سعید احمد اختر

No comments:

Post a Comment