Sunday, 4 December 2016

ادھر وہ دیر قیامت میں تھی کہ ہو کرتے

اِدھر وہ دیر قیامت میں تھی کہ ہُو کرتے
اُدھر سے مغبچے دوڑے سبو سبو کرتے
مقابلے میں جو آتی تو ہم سے دست دراز
خراب گردشِ دوراں کی آبرو کرتے
اس انتظار میں زندہ عروسِ گل ہے کہ ہم
ادھر بھی آئیں گے تنظیمِ رنگ و بو کرتے
ہمارے ہاتھ سے ہوتا لباسِ زہد جو چاک
اسے رگِ گلِ نو رستہ سے رفو کرتے
خدا گواہ، کہ پروردگار ہوتے ہم
ذرا سی اور اگر جرأتِ نمو کرتے
بچے نہ دستِ زلیخائے نو بہار کہ ہم
قدح بدست تھے کیا حفظِ آبرو کرتے
وہ ہم نے پردۂ اسرار پر کیۓ ہیں ستم
کہ عمرِ خضر گزر جائے گی رفو کرتے
ہم اس جہاں میں تھے کل شب کسی کے ساتھ کہ لوگ
صبا کی طرح بھٹکتے، جو جستجو کرتے
ہمارے دوش پہ کھلتی جو تیری زلف، تو ہم
نسیمِ صبح کے لہجے میں گفتگو کرتے
شبِ بہار نہ تھی اس قدر دراز کہ ہم
تری بہار کا اندازۂ نمو کرتے
ادھر سے ہو کے گزرتی تو ہم بہار کے ساتھ
غزال بن کے غزالوں کی جستجو کرتے
سیاہئ رخِ اہلِ ریا تھی بے درماں
ہزار کوثر و تسنیم سے وضو کرتے
وہ صاف گو ہیں کہ ہم تو فقیہِ شہر سے بھی
پری وشوں کی ہی کرتے، جو گفتگو کرتے
بلاۓ جاں ہیں ظفرؔ دلبرانِ حلقۂ شب
بجا تھا ہم بھی اگر دلبری کی خو کرتے

سراج الدین ظفر

No comments:

Post a Comment