اس صدی کا جب کبھی ختم سفر دیکھیں گے لوگ
وقت کے چہرے پہ خاکِ رہگزر دیکھیں گے لوگ
تخم ریزی کر رہا ہوں میں اسی امید پہ
پھولتے پھلتے ہوئے کل یہ شجر دیکھیں گے لوگ
ختم ہم پر ہیں شبِ زنداں کی ساری سختیاں
انجمن کو فیض پہنچائے گی شمعِ انجمن
کیا حسیں ہوتی ہے عمرِ مختصر دیکھیں گے لوگ
رمزؔ میں اپنی زباں سے کچھ نہیں بتلاؤں گا
کس طرف اٹھتی ہے یہ میری نظر دیکھیں گے لوگ
رمز عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment