یہ انتہا ہے مِرے دکھ بھرے فسانے کی
بہت دنوں سے تمنا ہے مسکرانے کی
وہ دن گئے کہ مسرت میں لوگ ہنستے تھے
اب آنسوؤں میں ضرورت ہے مسکرانے کی
سکوتِ شب میں یہ اکثر ہوا مجھے افسوس
غبارِ وقت ہے نقشِ قدم یہ ماضی کے
دلیل ہے یہ نئے کارواں کے آنے کی
وہ خوش تھے ذکرِ وفا کر کے بے حجابانہ
مگر حیا سے نظر جھک گئی زمانے کی
غریبِ شہر گئے جب بھی میکدہ کی طرف
تو ان پہ اٹھنے لگیں انگلیاں زمانے کی
بَری ہے رمؔز تکلیف سے زندگی اپنی
فریب دے نہ سکی دلکشی زمانے کی
رمز عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment