صفحات

Saturday, 3 December 2016

جلنے کا ہنر صرف فتیلے کے لیے تھا

جلنے کا ہنر صرف فتیلے کے لیے تھا
روغن تو چراغوں میں وسیلے کے لیے تھا
صندل کا وہ گہوارہ جو نیلام ہوا ہے
اک راج گھرانے کے ہٹیلے کے لیے تھا
عیاش طبیعت کا ہے آئینہ اک اک اینٹ
یہ رنگ محل ایک رنگیلے کے لیے تھا
کل تک جو ہرا پیڑ تھا کیوں سوکھ گیا ہے
جب دھوپ کا موسم کسی گیلے کے لیے تھا
مسجد کا کھنڈر تھا، نہ وہ مندر ہی کا ملبہ
جو گاؤں میں جھگڑا تھا وہ ٹیلے کے لیے تھا
کانٹوں کا تصرف اسے اب کس نے دیا ہے
یہ پھول تو گلشن میں رسیلے کے لیے تھا
اب رہتا ہے جس میں بڑے سرکار کا کنبہ
دالان تو گھوڑے کے طبیلے کے لیے تھا
شہرت کی بلندی پہ مجھے بھول گیا ہے
کیا نام مِرا رمزؔ وسیلے کے لیے تھا

رمز عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment