عیب جو مجھ میں ہیں میرے ہیں ہنر تیرا ہے
میں مسافر ہوں، مگر زادِ سفر تیرا ہے
تُو یہ کہتا ہے سمندر ہے قلمرو میں مری
میں یہ کہتا ہوں کہ موجوں میں اثر تیرا ہے
تُو نے روشن کیۓ ہر طاق پہ فرقت کے چراغ
سنگریزے تو برستے ہیں مِرے آنگن میں
جس کا ہر پھل ہے رسیلا، وہ شجر تیرا ہے
ڈوبتے ہیں جو سفینے، یہ خطا کس کی ہے
تہ نشیں موج مِری ہے تو بھنور تیرا ہے
رمزؔ ہر تہمتِ ناکردہ سے منسوب سہی
یہ مگر سوچ لے اس میں بھی ضرر تیرا ہے
رمز عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment