صفحات

Thursday, 1 December 2016

وہ جو ہم کو بھلائے بیٹھے ہیں

وہ جو ہم کو بھلائے بیٹھے ہیں
دل انہیں سے لگائے بیٹھے
اک نہ اک شب تو لوٹ آئیں گے
لو دِیے کی بڑھائے بیٹھے ہیں
آج بھی ان پہ جاں چھڑکتے ہیں
وہ جو نظریں چرائے بیٹھے ہیں
ان کی آنکھوں میں ڈوبنے کو حسن
اپنا سب کچھ گنوائے بیٹھے ہیں

حسن رضوی

No comments:

Post a Comment