مِرا انیس مِرا غم ہے تم نہ ساتھ چلو
تمہارا اور ہی عالم ہے تم نہ ساتھ چلو
عجب تضاد کا موسم ہے تم نہ ساتھ چلو
چھپائے شعلوں کو شبنم ہے تم نہ ساتھ چلو
خوشی تو غرقِ غمِ روزگار ہے میری
لبِ حیات پہ ماتم ہے تم نہ ساتھ چلو
ہر ایک موڑ پہ جلتے ہیں غربتوں کے چراغ
قدم قدم پہ نیا غم ہے تم نہ ساتھ چلو
زمین خون اگلتی ہے، چرخ انگارے
نظامِ دہر بھی برہم ہے تم نہ ساتھ چلو
ہے چیرہ دست زمانہ یہ ان سے کہہ دو جلیل
تمہاری زلف بھی برہم ہے تم نہ ساتھ چلو
جلیل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment