دعاؤں میں ہو گا اثر ہوتے ہوتے
خبر ان کو ہو گی خبر ہوتے ہوتے
گلِ تر کو اک عمر گل ہی نہ جانا
ہوئی ہے نظر معتبر ہوتے ہوتے
سرِ شام ہی سے نگاہیں ہیں حیران
خدا جانے کیا ہو سحر ہوتے ہوتے
سمجھنا مقاصد کا آساں نہیں ہے
ہوئے راہزن، راہبر ہوتے ہوتے
جلیلؔ ہم سے پوچھو مداوائے الفت
ہوئے فتنہ گر چارہ گر ہوتے ہوتے
جلیل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment