صفحات

Thursday, 1 December 2016

جا کر دعا بھی عرش سے ناکام آ گئی

 جا کر دعا بھی عرش سے ناکام آ گئی

اک اور اپنے سر لیے الزام آ گئی

راہِ وفا بھی تلخ تھی ہر ہر نفسِ حیات

عمرِ اجل دراز مِرے کام آ گئی

وعدہ بھی ان سے ہونے نہ پایا وصال کا

لے کر پیامِ ہجر لو پھر شام آ گئی

اے چشمِ شوق ہاں ذرا جرأت سے کام لے

تنویرِ حسن دیکھ لبِ بام آ گئی

وقتِ سجود لب پہ تِرا نام آ گیا

پوشیدہ بات تھی جو سرِ عام آ گئی

ان کو ملی حیات کی رنگینیاں جلیلؔ

حصہ میں اپنے گردشِ ایام آ گئی


جلیل الہ آبادی

No comments:

Post a Comment