جا کر دعا بھی عرش سے ناکام آ گئی
اک اور اپنے سر لیے الزام آ گئی
راہِ وفا بھی تلخ تھی ہر ہر نفسِ حیات
عمرِ اجل دراز مِرے کام آ گئی
وعدہ بھی ان سے ہونے نہ پایا وصال کا
لے کر پیامِ ہجر لو پھر شام آ گئی
اے چشمِ شوق ہاں ذرا جرأت سے کام لے
تنویرِ حسن دیکھ لبِ بام آ گئی
وقتِ سجود لب پہ تِرا نام آ گیا
پوشیدہ بات تھی جو سرِ عام آ گئی
ان کو ملی حیات کی رنگینیاں جلیلؔ
حصہ میں اپنے گردشِ ایام آ گئی
جلیل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment