صفحات

Saturday, 3 December 2016

یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے جی کے

یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے جی کے
بہت عنوان ہیں اس زندگی کے
وہاں جشنِ چراغاں ہو رہا ہے 
یہاں آثار کم ہیں روشنی کے
تِری دہلیز پہ بیٹھا ہوں جب سے 
سلیقے آ گئے ہیں بندگی کے
مجھے خوش دیکھ کر خوش ہونے والے 
کئی مفہوم ہوتے ہیں ہنسی کے
بظاہر معتبر چہرے ہیں، لیکن 
بہت سے روپ دیکھے آدمی کے
مِری آنکھوں سے جب گزرا اندھیرا
کھلے اسرار مجھ پر روشنی کے

زاہد آفاق

No comments:

Post a Comment