حدیثِ کفر کو اقرار کہتا آ رہا ہوں
انا الحق بر سرِ بازار کہتا آ رہا ہوں
خداوندا! کسی صورت بھرم رہ جاۓ تیرا
میں اپنے جسم کو دیوار کہتا آ رہا ہوں
تِرے شجرے کی ننگی شاخ پر بیٹھا ہوا میں
تِرے بیجوں میں مٹی کا نمک بولے نہ بولے
تِرے پھولوں کو خوشبو دار کہتا آ رہا ہوں
شناوؔر کون سے تحت الثریٰ میں معتکف ہیں
وہ آنکھیں، میں جنہیں بیدار کہتا آ رہا ہوں
شناور اسحاق
No comments:
Post a Comment