اک شخص آیا، قوم کی تقدیر بن گیا
پھر ملک چند لوگوں کی جاگیر بن گیا
کمزور و ناتواں سا نحیف و علیل شخص
اٹھا تو انقلاب کی تحریر بن گیا
بدلیں گے اپنے طور کسی درس گاہ میں
خوشبو مجھے صباحتِ مر مر میں لے گئی
نغمہ تِرے خیال کی تصویر بن گیا
جب چاہا میرے ہونٹوں پہ لا رکھے اپنے پھول
جب جی ہوا کماں میں جڑا تیر بن گیا
شامل تو وہ بھی تھا مِرے کارِِ ثواب میں
میں تار و تیرہ اور وہ تنویر بن گیا
مردہ ہو جب ضمیر تو امکاں ہزار ہیں
طب کی نہ جب دکاں چلی، پِیر بن گیا
ملتا تھا وہ تو زلف کشائی کے بعد بھی
میں آپ اپنے پیروں کی زنجیر بن گیا
رکھے رہا سعیؔد جو بے خواب عمر بھر
کیسے وہ میرے خواب کی تعبیر بن گیا
سعید احمد اختر
No comments:
Post a Comment